جماعت المسلمین

جماعت المسلمین کا تعارف

«

جماعت المسلمین کی دعوت

«

جماعت المسلمین کے اوصاف

«

جماعت المسلمین کے امیر

«

جماعت المسلمین
جماعت المسلمین
ڈاؤن لوڈ سینٹر
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
جماعت المسلمین کی دعوت

جماعت المسلمین کی دعوت اسلام کی دعوت ہے۔ جما عت المسلمین کا تعلق کسی فرقہ سے نہیں اور نہ جماعت المسلمین کا کسی قرقہ وارانہ مذ ہب سے کوئی تعلق ہے۔ جماعت المسلمین کا نہ کو ئی مکتبہ فکرہے اور نہ کوئی مسلک۔ جماعت المسلمین کا منہاج دین ہے اور دین اسلام ہے۔

جماعت المسلمین میں فرقہ وارانہ مذہب کے ما ننے والے نہیں پائے جاتے یعنی جماعت المسلمین فرقوں کا معجون مرکب نہیں ہے۔ جماعت المسلمین میں جو شخص بھی داخل ہوتا ہے وہ صرف مسلم ہو تا ہے۔ وہ صرف قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے احکام کا پابند اور توحید و سنت کی راہ پر گامزن ہو تا ہے۔

جماعت المسلمین کے مقاصد وہی ہے جو اسلام کے مقاصد ہیں یعنی اعلائے کلمۃ الحق، شرک و بدعت کا استیصال، فرقوں کے وجود کو ختم کرنا، طبقا عت، قوم، وطن، زبان، صوبہ ورایت کے بتوں کو توڑ کر پھینک دینا، آپس میں ایک دوسرے سے صرف اللہ ذوالجلال والا کرام کے لئے محبت کرنا وغیرہ وغیرہ۔


ہمارا حاکم صرف ایک یعنی اللہ تعالےٰ

حاکم سے مراد وہ حاکم ہے جس کی حکومت ازلی وابدی ہو، جس کی اطاعت لامحدود اور غیر مشروط ہو، قانون ساز ہو، جس کا قانون کامل ہو، جس کی عبادت اور اطاعت تخلیق کا مقصد ہو، حلال و حرام کرنا جس کا حق ہو، جس کی رضاکا حصول اعمال صالحہ کا مقصد ہو، جس سے تعلق آپس کی محّبتکی بنیاد ہووغیرہ وغیرہ۔


آئیےہم سب ایک اللہ کو حاکم مانیں اور ایک ہوجائیں۔



ہمارا امام صرف ایک یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

امام سے مراد وہ امام نہیں جو نماز پڑھاتا ہو، امام سے مراد وہ امام نہیں جو کسی فن میں مہارت رکھنے کی وجہ سے اُس فن میں امام کہلاتا ہو، امام سے مراد وہ امام نہیں جو امیر یا حکمراں ہو، امام سے مراد وہ امام بھی نہیں جو کسی نیکی یا تقوے میں پہل کرنےکی وجہ سے دوسروں کے لئے میش روبن جائے،

بلکہ

امام سے مراد وہ امام ہے جس کو اللہ تعالےٰ نے منصب امامت پرسرفراز فرمایا ہو، جس کی اطاعت کا اللہ تعالےٰ نے حکم دیاہو، جس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو، جس کا ہر حکم واجب الاتباع ہو، جس کا ہر جملہ ضابطہ حیات کا جز و لاینفک ہو، جس کی حدیث قرآن مجید کی واحد مستند تفسیر ہو، جس کا عمل اسوة حسنہ ہو، جس کی پیروی فرض ہو، جس کی امامت دائمی ہو، جس کی ہر دینی بات وحی ہو، جو معصوم ہواورجس سے دینی بات میں غلطی کا صدورناممکن ہو، جس کو اپنے تمام اختلافات میں حکم ماننا واجب ہو، جس کے فیصلے کو بے چون و چرااور خوش دلی سے تسلیم نہ کرنا کفر ہو، دینی معاملات میں جس کا فیصلہ آخری سند ہو، جس کی ااطاعت و پیروی سے ہدایت ملتی ہو، جس کی پیروی سے ولایت ملتی ہو، جو مزکیّ اور معلّمِ کتاب و حکمت بناکر بھیجا گیا ہو، جس کے قول و فعل کی مخالفت فتنہ عظیم اور عذاب الیم  کی موجب ہو، جو صراط مستقیم پر قائم ہو اور صراط مستقیم کی دعوت دیتا ہو، جوسراج منیر یعنی روشن چراغ ہو جس کی روشنی سے ضلالت کی تاریکیاں معدوم ہوجاتی ہوں، جو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور تبلیغ حق میں نڈراور دلیر ہو، جو تقیہ کرکے حق پر پردے نہ ڈالتا ہو، جوقصرِنبّوت کی آخری اینٹ اور سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی ہو، جس کے بعد قیامت تک کسی کا نبی بننا ناممکن ہو، جس کی گھریلوزندگی اور بیرونی زندگی ایک کھلی کتاب ہو، جو ہر شعبہ زندگی میں مشعل راہ ہو، جس کی اتباع مقصد ہو اور جس کے لئے ان تمام خصوصیات پر قرآنی شہادت و سند موجود ہو۔

آئیے محمد رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کو واحد واجب الاتباع امام مان کر ہم سب ایک ہوجائیں۔



ہمارا دین صرف ایک یعنی اسلام

اللہ تعالیٰ ہمارا حاکم ہے، ہمارا بادشاہ ہے، عبادت واطاعت صرف اس کا حق ہے۔ محمد رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم ہمارے امام ہیں۔ اللہ تعالی کی اطاعت محمد رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کی اطاعت کے لئے محمد رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم واحد ذریعہ اور واسطہ ہیں، جو محمد رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالےٰ ہی کی اطاعت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کے ذریعہ جو قانون، جو ضابطہ حیات ہمارے لئے بھیجا ہے اُسے دین کہتے ہیں اور اس دین کا نام اسلام ہے۔

جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور قانون یا ضابطہ کی پیروی کرتا ہے تو وہ قانون یا ضابطہ اللہ تعالےٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔

اسلام ایک کامل دین اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ دینِ اسلام رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کی زندگی میں کامل ہو گیا تھا۔ کامل چیز میں مزید کوئی چیز شامل نہیں ہو سکتی لہذا فتووں کے لئے اس دین میں کوئی گنجائش نہیں۔

دینِ اسلام اللہ تعالےٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا، اللہ تعالےٰ نے ہمیں مُنزّل من اللہ کی پیروی کا حکم دیا تھا۔ مذاہب بعد میں بنے لہذا ان کی پیروی اسلام نہیں، کچھ اور ہے۔ فر قہ بندی کو ختم کرنے کے لئے فرقہ وارانہ مذاہب کو ختم کرنا ہوگا۔

آیئے ہم سب مل کر صرف منزل من اللہ دینِ اسلام ﴿یعنی قرآن و حدیث﴾ کی پیروی کریں اور ایک ہو جائیں۔



ہمارا نام صرف ایک یعنی مُسلِم

تمام ایمان والوں کا نام صرف ایک ہے اور وہ مسلم ہے۔ یہ نام اللہ تعالےٰ نے رکھا ہے۔ اس نام کے ہوتے ہوئے دوسرے نام رکھنا فرقہ واریت کو جنم دینا ہے۔

گذشتہ امّتوں میں بھی ایمان والوں کا یہی نام تھا۔ اسلام رسول ﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کے زمانے میں صرف یہی ایک نام تھا۔

آئیے ہم سب اپنا نام مسلم رکھ کر ایک ہو جائیں اور فرقہ بندی کو ختم کردیں۔



ہماری محبّت کی بنیاد صرف ایک یعنی اللہ تعالےٰ

محبّت کی بنیادیں مختلف ہواکرتی ہیں۔ کبھی محبت کی بنیاد رشتہ ہوتا ہے، کبھی کسی کام میں شرکت ہوتی ہے، کبھی خوبصورتی ہوتی ہے، کبھی قومیّت ہوتی ہے، کبھی وطن ہوتا ہے لیکن مسلم کی بنیاد اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔

مسلم کو سب سے زیادہ محبّت اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے۔ لہٰذا ان تمام وجوہ جن کی بنیاد پر کسی سے محبّت کی جاتی ہے اللہ تعالےٰ کی خاطر محبت کرنے کی وجہ سب سے زیادہ شدید اور عظیم ہونی چاہیئے۔

آیئے ہم سب آپس میں ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کریں اور اس محبت کو تمام محبتوں پر ترجیع اور فوقیّت دیں اور سب مل کر ایک ہو جائیں۔



ہمارے فخرکا سبب صرف ایک یعنی ایمان

فخر کے سبب بہت سے ہو سکتے ہیں مثلاً نسب، وطن، زبان، قابلیت، ظاقت، سیاست، اقتدار اور حُسن وغیرہ لیکن فخر کے یہ تمام اسباب فانی ہیں، ان میں سے کوئی بھی آخرت میں کام آنے والا نہیں۔ آخرت میں کام آنے والی چیز صرف ایمان ہے۔ یہی وہ چیز ہےجس پر ایک مسلم کو فخر کرنا چاہیئے، اسی کی بنیاد پر معاشرہ کی تشکیل کرنی چاہیئے اور اسی کی بنیاد پر محبتوں کو استوار کرنا چاہیئے۔

اللہ تعالےٰ ایک ہے تو اس کی جماعت بھی ایک ہونی چاہیئے۔ یہ ہے وحدت ملّت کا وہ سبق جس کو ہم بالکل بھول گئے۔ ملک، قوم، زبان اور وطن پر فخر کرنے لگے۔ پہلے ملکی بعد میں مسلم بننے پر ناز کیا جانے لگا۔ کافروں کی نقّالی میں ہمارے ہاں بھی مادر وطن نے جنم لیا۔

مسلمین میں ملکی، سیاسی، نسلی، قومی، لسانی، ثقافتی، صوبائی یا وطنی حدود قائم کرنا اسلامی اصول کو منسخ کرنا ہے۔ وطن پرستی سے اسلامی معاشرہ کی بنیادیں ہل جاتی ہے۔ وحدّتِ ملّت کا سبق قصّہٴ پارینہ بن جاتا ہے، امتِ مسلمہ عصبیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور عصبیت کی خاطر ایک دوسرے سے لڑکر اپنی قوت کو پارہ پارہ کر لیتی ہے۔

آیئے سب مل کر ایک ہو جایئے، وطن اور زبان کو تفریق کا سبب نہ بنایئے۔ اپنے ایمان اور اسلام پر فخر کیجیئے۔

آیئے اور احیائے اسلام، اعلائے کلمة الحق اور دنیا کے چپہ چپہ پر اللہ تعالےٰ کی حاکمیت قائم کرنے کی کوشش میں جماعت المسلمین کے ساتھ تعاون کیجیئے۔


نوٹۛ  .:مندرجہ بالاچھ نکات میں سے ہر ایک پر علیٰحدہ علیٰحدہ پمفلٹ بھی مرتب کئے گئے ہیں۔ تفصیلی معلومات کے لئے ان کا مطالعہ کیجیئے۔

جماعت المسلمین کی دعوت