توحید

«

صلوٰۃ

«

صوم

«

زکوٰۃ

«

حج

«

اسلام کی بنیاد
دین اسلام
ڈاؤن لوڈ سینٹر
اسلام کی بنیاد
بسم اللہ الر حمٰن الرحیم
توحید

توحید کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں یکتامانا جائے نہ اس کی زات میں کسی کو شریک کیا جائے نہ اس کی صفات میں کسی کو شریک کیا جائے اور نہ اس کےحقوق میں کسی کو شریک کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ایک ہے، یکتا ہے، اکیلا ہے اور نرالا ہے۔

توحید تمام اعمالِ صالحہ کی اصل ہے، اگر توحید نہیں تو تمام اعمال صالحہ بیکار ہیں۔ توحید نہیں تو ایمان نہیں، توحید اور شرک ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ توحید کے بغیر نجات نہیں اور شرک کی موجودگی میں نجات ناممکن ہے۔ شرک کسی حالت میں معاف نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:۔



بے شک اللہ شرک کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس گناہ کو جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا اور جو  شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ بہت بڑے گناہ  کا ارتکاب کرتا ہے۔


(اَانسآء-48)

ایمان لانے کے بعد جو شخص شرک کرے گا تو اس کا ایمان اُسے کوئی فائدہ نہ پہنچائے گا۔ ایمان وہی مفید ہوگا جس کے ساتھ شرک کی آمیزش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے ملّوث نہ کیا تو ایسے ہی لوگوں کے لئے امن ہے اور  یہی لوگ ہدایت یاب ہیں۔

(سورۃ الانعام-86)
(صحیع بخاری و صحیع مسلم)

رسول اللہ صلّٰی اللہ علیہ وسلّم کے فرمان کے مطابق (آیت بالا میں) ظلم سے مُراد شرک ہے۔


آیت بالا سے ثابت ہوا کہ بعض لوگ ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے کے باوجود مشرک ہوتے ہیں۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے


بہت سے لوگ ایمان لانے کے باوجود بھی مشرک ہوتے ہیں۔
(سورۃ یوسف-106)

توحید کا معالہ بہت نازک ہے۔اس کی نزاکت سے عام طور پر لوگ واقف نہیں ہوتےلہٰذا غیر شعوری طورپر شرک کربیٹھتے ہیں اور اپنے ایمان کو خراب کرلیتے ہیں۔ شرک عام طورپر عقیدت میں غلوکرنے سے پیداہوتا ہے۔ اولیاءاللہ سے محّبت اور اس کی فضلیت کا اعتراف بے شک بہت ضروری ہے لیکن اس کے تقاضے یہ نہیں ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور حقوق میں شریک بنایا جائے۔ لوگ اس کو مھبت سمجھتے ہیں لیکن یہ مھبت نہیں، بلکہ اپنے لئے عداوت ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔

اولیاءاللہ کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا، وہ تو اپنے بلند مراتب پر فائز ہیں، البتہ مھبت میں غلو کرنے والوں کی آخرت خراب ہوجاتی ہے لہذا جس ہستی کی وجہ سے مھبت کی جاتی ہے اس کی جلالتِ شان، اس کی یکتائی اور اس کے حدوددفرامین کی پابندی کا لحاظکرتے ہوئے ہی محبت کرنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہوسکتاہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا دھوکا ہے۔ اس سے بچنا بڑا ضروری ہے۔

اب ہم توحید کے تقاضے اور شرک کی تمام قسمیں جن میں اکثر لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص کو چاہیئے کہ ان کو غور سے پڑھے اور شرک کی تمام اقسام سے بچنے کا اہتمام کرے بلکہ ان کے قریب بھی نہ جائے۔