بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
Jamaat-ul-Muslimeen – Information about Live Events and Updates
ماہانہ تربیاتی اجتماع – 17 دسمبر 2016

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ماہانہ تربیاتی اجتماع بروزاتوار17  ربیع الاول بمطابق 17 دِسمبرکو مرکز جماعت المسلمین ، کراچی میں منعقد کیا گیا ہے

new-doc-23_1

Read More

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رب العزت کو خدا کہنا جائز نہیں

  برصغیر اور فارس میں اکثر لوگ اور علماء  اللہ تعالیٰ کیلئے لفظ  خدا  کا استعمال کرتے ہیں جبکہ یہ فارسی کا لفظ ہے  اور فارسی میں یہ لفظ غیر اللہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

 مثلاً  بیوی اپنے شوہر کو مجازی خدا کہتی ہے ۔ کشتی کے ملاح کو  ناخدا (ناؤخدا)  کہتے ہیں ۔ شاعر وں اور ادیبوں کو خدائے سخن  کہتے ہیں ۔  بادشاہ کو  خدا وند نعمت کہتے ہیں ۔  اور سب سے بری بات یہ ہے کہ مجوسیوں  کے عقیدہ کے مطابق دو(۲)  خدا  ہیں  ایک خدائے یزدان (اچھائی کا خدا) اور دوسرا  خدائے اہرمن ( برائی کا خدا ) یعنی ہر خدا ناقص ہے ۔  اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمام کمزوریوں سے پاک و صاف ہے ۔

   اللہ تعالیٰ نے یہ نام ہم کو  نہیں بتایا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیھ وسلم نے یہ نام بتایا ۔

جب ہم کسی انسان کو اپنی مرضی سے نام نہیں دے سکتے ، تعارف کے بعد ہی ہم اس کو اس کے نام سے  پکارتے اور لکھتے ہیں

تو کیا اللہ تعالیٰ کو ہم اپنی مرضی سے نام دے سکتے ہیں ؟؟؟ نہیں ہر گز نہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کام سے سختی سے منع فرمایا ہے ۔

  اللہ ربّ العالمین کا ذاتی نام اللہ ہے  ۔  اس کے علاوہ صفاتی نام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم کو بتا دیئے ہیں جو قرآن ِ مجید اور صحیح احادیث میں محفوظ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو انہی ناموں سے پکاریں اور لکھیں جو اُس نے  سیکھائے ہیں  ۔ اللہ تعالیٰ کواُس کی مخلوق اپنی مرضی سے نام نہیں دے سکتی۔

ملاحظہ فرمائیں:۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔

اور(اے ایمان والو) اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں ، اللہ کو انہی ناموں سے پکارا کرو ، اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اللہ کے ناموں میں کج روی اختیار کر تے ہیں، جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں عنقر یب ا ِسکی  سزااِ ن کو ملنے والی ہے ۔

سورۃ الاعراف  ۱۸۰

خالقِ کائنات کا اسم ذات صرف اللہ ہے لیکن اس کی صفتیں بے شمار ہیں ، اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اعلیٰ و ارفع ہیں  اسکی کوئی صفت ناقص نہیں ہے  لہذا اِن صفات ِ کاملہ سے جو صفاتی نام بنتے ہیں  وہ سب اچھے نام ہیں اور وہ سب اللہ تعالیٰ نے بتا دیئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر ہم اسکے صفاتی نام بھی نہیں جان سکتے کہ اس کیلئے کون سا نام شایان ِ شان اور اچھا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی  و گمراہی اختیار کرنے کی چار صورتیں ہیں ۔

 :  اللہ تعالیٰ کے ناموں میں تبدیلی کر دی جائے ، جیسے مشرکین نے کیا  ، مثلاً اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام سے اپنے ایک بت کانام  لات  اور صفاتی نام عزیز سے عزیٰ بنا لیا ۔ ۔ فتح القدیر

:  اللہ تعالیٰ کے ناموں میں اپنی طرف سے اضافہ کر لینا ، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے نہیں دیا ۔ ۔ فتح القدیر

:  اللہ تعالیٰ   کے ان  ناموں میں کمی کر دی جائے جو اللہ تعالیٰ نے سیکھائے ہیں ۔ ۔ فتح القدیر

:اللہ تعالیٰ کے ناموں میں  تاویل یا تعطیل  یا تشبیہ  سے کام لیا جائے ۔  ۔ ایسر التفاسیر

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں کج روی ایک قسم کا شرک ہے کیونکہ یہ کام مشرکین نے کیا تھا ۔  اور اللہ تعالیٰ کو  اپنی  طرف سے نام دینا یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں اضافہ ہے اور یہی کج روی ہے ۔  اسلیئے سب سے  پہلے اس شرک سے بچنا ہو گا ۔

 اب سعودی عرب  والوں نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے  قرآن ِ مجید  کے ترجمہ اور تفسیر  جو کہ احسن البیان  کے نام سے شائع ہوتا ہے سے  خد ا  لفظ نکال دیا ہے  اور  مقدمہ میں اس کی کچھ خامیاں بھی بیان کی ہیں ۔ اور  سورۃ الاعراف کی آیت ۱۸۰  کی تفسیر میں بھی بیان کیا ہے ۔         

امید ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہ حقائق عزیزوں اور دوستوں تک پہنچائیں گے ۔  اللہ ربّ العالمین  آپ کی مدد فرمائے ،، آمین ،،

اللہ تعالیٰ کو اِن ناموں سے نہ لکھا اور نہ پکارا جائے  مثلاً   خدا  ،  گاڈ  ،  بھگوان  ،  ایشور وغیرہ ۔

        اللہ ربّ العا لمین  ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء  فرمائے  ،،، آمین

For More Log on to Our Website.

http://jamaatulmuslimeen.info/

Read More
Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

Read More